رمضان المبارک کے آداب

2
104
ramzan ky adab

رمضان المبارک کے آداب
حضور اقدس نے ارشاد فرمایا کہ رمضان المبارک میں جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور سرکش شاطین قید کردیئے جاتے ہیں۔ یہ کتنی بڑی خوش نصیبی کی بات ہے کہ ہم جیسے سیاہ کاروں کے لئے شیاطین کو قید کردیا جاتا ہے اس کی وجہ سے بڑے بڑے گنہ گاروں کو نیک اعمال کرنے کی توفیق ہوجاتی ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب سرکش شیاطین قید کردیئے جاتے ہیں تو پھر آخر لوگوں سے گناہوں کا صدور کیوں ہوتا ہے؟
اس کے کئی جوابات دیئے گئے ہیں۔ایک جواب یہ ہے کہ شیطان گیارہ مہینے تک انسان کو بہکانے میں لگا رہتا ہے اور بدنصیب انسان بھی شیطان کے چکر میں آکر گناہ کرتا رہتا ہے اس طرح انسان کا ذہن گناہوں کا عادی ہوجاتا ہے اوروہ ماہ رمضان المبارک میں  گناہوں سے باز نہیں رہ پاتا۔

یہ بات بھی تجربہ میں آئی ہے کہ زیادہ تر گناہوں کا صدور ان ہی لوگوں سے ہوتا ہے جو رمضان کے علاوہ بھی کثرت کے ساتھ گناہوں میں پڑے رہتے ہیں۔ چونکہ ان کا نفس گناہوں پر دلیر ہوچکا ہوتا ہے اس لئے وہی نفس ماہ رمضان میں بھی ان کو گناہوں پر ابھارتا ہے۔
حدیث پاک میں آتا ہے کہ جب کوئی انسان گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ جب دوسری بار گناہ کرتا ہے تو دوسرا سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے یہاں تک کہ اس کا دل بالکل سیاہ ہوجاتا ہے اور کوئی بھلائی اور نیکی کی بات اس کے دل پر اثر انداز نہیں ہوتی۔
ظاہر ہے کہ جس کا دل زنگ آلود اور سیاہ ہوچکا ہو اس پر بھلائی اور خیر کی بات اور نصیحت کہاں اثر انداز ہوگی؟ رمضان ہو یا غیر رمضان، ایسے انسانوں کا گناہوں سے باز اور بیزار رہنا نہایت ہی دشوار ہوجاتا ہے۔ ان کادل نیکی کی طرف مائل ہی نہیں ہوتا۔ اگر وہ نیکی کی طرف آ بھی گیا تو بسا اوقات اس کا دل اسی سیاہی کے سبب نیکی میں نہیں لگتا اور وہ نیکیوں کے ماحول سے بھاگنے کی فکر میں لگا رہتا ہے۔ اس کا نفس اسے لمبی لمبی امیدیں دلاتا ہے ، غفلت گھیر لیتی ہے اوروہ بدنصیب نیکیوں اور اچھے ماحول سے دور جاگرتا ہے۔ رمضان کی مبارک ساعتیں بلکہ پوری پوری راتیں وہ شخص لہو ولعب، فضولیات، کھیل کود، گانے بجانے، تاش ، شطرنج اور طرح طرح کے خرافات میں برباد کردیتا ہے۔
گناہوں میں کمی تو آہی آجاتی ہے
عام مشاہدہ تو یہی ہے کہ رمضان المبارک میں ہماری مسجدیں غیر رمضان کے مقابلہ زیادہ آباد ہوجاتی ہیں، نمازیوں کی کثرت ہوجاتی ہے اور وہ لوگ بھی مسجدوں کو آجاتے ہیں جو غیر رمضان میں مسجد کے قریب نہیں آتے تھے، نیکیاں کرنے میں آسانیاں ہوجاتی ہیں اور اتنا تو ضرور ہے کہ ماہ رمضان میں گناہوں کا سلسلہ کچھ نہ کچھ کم ضرور ہوجاتا ہے۔
رمضان المبارک کی فضیلت
حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ جب رمضان کا چاند نکلتا ہے تو اللہ تعالیٰ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو فرماتے ہیں کہ حورانِ بہشت کو زیب وزینت کا حکم دواور ان کو آواز دو کہ اے اہل آسمان! اور اے اہل زمین! ہوشیار ہوجاؤ کہ یہ رمضان المبارک کا مہینہ ہے جو شخص اس کی تعظیم کرے گا وہ بخشا جائے گا اور شیطان کو قید کردو تاکہ روزہ دار گناہ کرنے سے بچ جائیں۔
یہ مہینہ بڑا مقدس مہینہ ہے اس کی قدر اور تعظیم کرواور خوب ثواب کماکر جنت کی ابدی نعمتیں حاصل کرو، رمضان المبارک کی کسی بھی طرح بے حرمتی نہ ہونے پائے۔بسااوقات نمازی اور روزہ دار لوگ بھی ماہ رمضان کی بے حرمتی کرکے خدائے تعالیٰ کے غضب کا شکار ہوجاتے ہیں اور پھر عذاب الٰہی میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔
ایک عبرت آمیز واقعہ
حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک مرتبہ زیارت قبور کے لئے قبرستان تشریف لے گئے، وہاں ایک تازہ قبر پر نظر پڑی۔ آپ کو اس کے حالات معلوم کرنے کی خواہش ہوئی، چنانچہ بارگاہ خداوندی میں عرض کیا یااللہ! اس کے حالات پر مجھے مطلع فرما۔ فوراً اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں آپ کی التجا سنی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے آپ اور اس مردے کے درمیان جتنے پردے حائل تھے تمام اٹھادیئے گئے۔ اب ایک ہیبت ناک اور ڈراؤنی منظر آپ کے سامنے تھا۔ کیا دیکھتے ہیں کہ مردہ آگ کی لپیٹ میں ہے اور وہ روکر آپ سے فریاد کررہا ہے یاعلی! میں آگ میں ہوں ، آگ مجھے جلارہی ہے۔ اے علی! میرے حال پر رحم فرماکر مجھے اس ہولناک عذاب سے نجات دلائیے۔
اس وحشت ناک منظر اور مردے کی چیخ وپکار اور دردناک فریاد نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو بے قرار کردیا۔ آپ نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں ہاتھ اٹھادیئے اور نہایت ہی عاجزی کے ساتھ اس میت کی بخشش کے لئے درخواست پیش کی۔ غیب سے آواز آئی اے علی! آپ اس کی سفارش نہ فرمائیں کیونکہ روزے رکھنے کے باوجود یہ بدنصیب شخص رمضان المبارک کی بے حرمتی کیا کرتا تھا، رمضان المبارک میں بھی گناہوں سے باز نہ آتا تھا۔ دن کو روزہ تو ضرور رکھتا تھا مگر راتوں کو گناہوں میں بھی مبتلا رہا کرتا تھا۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ یہ سن کر رنجیدہ ہوئے اور سجدے میں گر کر عرض کرنے لگے کہ اے میرے آقا، اے میرے پروردگار اس بندے نے بڑی امید کے ساتھ مجھے پکارا ہے۔ میرے مالک! تو اس کے آگے مجھے رسوا نہ کر۔ اس کی بے بسی پر رحم فرمااور اس کو بخش دے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ رو روکر مناجات کررہے تھے آخر اللہ تعالیٰ کو بھی رحم آگیا ، اس کی رحمت کا دریا موجزن ہوا اور ندا آئی اے علی! ہم نے تمہاری شکستہ دلی کے سبب اسے بخش دیا۔ چنانچہ آپ کی خاطر اللہ تعالیٰ نے اس سے عذاب کو ختم کردیا۔
رمضان المبارک کے ان مقدس لمحات کو اس طرح فضولیات وخرافات میں برباد نہ ہونے دو، زندگی مختصر سی ہے اس کو غنیمت جانو، دنیا میں جو عمل نیک کیا ہوگا قیامت کے دن اللہ کی ترازو میں وہ اتنا ہی وزن دار ہوگا۔اس سے معلوم ہوا کہ روزہ رکھنا اگرچہ دشوار ہے نفس کے لئے، لیکن قیامت کے دن ترازو میں وزن بڑھانے کے لئے یہ بڑا مؤثر ہے۔
روزہ کی فرضیت کی وجہ
اسلام میں اکثراعمال کسی نہ کسی روح پرور واقعہ کی یادتازہ کرنے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں مثلاً صفا ومروہ کے درمیان حاجیوں کی سعی حضرت سیدنا ہاجرہ علیہا السلام کی دونوں پہاڑوں کے درمیان کی سعی کی یاد تازہ کرتی ہے۔ آپ نے اپنے لخت جگر حضرت اسماعیل علیہ السلام کے لئے پانی تلاش کرنے کے لئے ان دونوں پہاڑوں کے درمیان سعی فرمائی تھی۔ اللہ تعالیٰ کو حضرت ہاجرہ علیہا السلام کی یہ ادا پسند آگئی اسی لئے اس سنت کو اللہ تعالیٰ نے باقی رکھتے ہوئے حاجیوں کے لئے صفا ومروہ کی سعی کو لازمی قرار دے دیا۔ اسی طرح رمضان کے کچھ ایّام نبیeنے غار حرا میں گذارے تھے۔ ان دنوں آپ دن کو کھانے سے پرہیز کرتے اور رات کو ذکر الٰہی میں مشغول رہتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان دنوں کی یاد تازہ کرنے کے لئے روزے فرض کئے تاکہ اس کے محبوب کی سنت قائم رہے۔
سابقہ امتوں کے روزے
روزہ گزشتہ امتوں میں بھی تھا مگر اس کی صورت ہمارے روزوں سے مختلف تھی۔ مختلف روایات سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ہر ماہ کی تیرہویں، چودہویں، پندرہویں تاریخوں کا روزہ رکھتے۔ حضرت نوح علیہ السلام ہمیشہ روزہ رکھا کرتے تھے، حضرت داؤد علیہ السلام ایک دن چھوڑکر ایک دن روزہ رکھتے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک دن روزہ رکھتے اور دو دن نہ رکھتے۔
روزہ کا خصوصی انعام
احادیث میں روزہ کی کئی خصوصیتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں۔ کیسی خوشخبری ہے اس روزہ دار کے لئے جس نے اس طرح روزہ رکھا جس طرح روزہ رکھنے کا حق ہے۔ یعنی روزہ کے تمام آداب ملحوظ رکھتے ہوئے اس نے روزہ رکھا یعنی پیٹ کو کھانے پینے اور اپنے آپ کو جماع سے باز رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے تمام اعضاء کو بھی گناہوں سے باز رکھا تو وہ روزہ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس کے تمام پچھلے گناہوں کا کفارہ ہوگا۔ اور حدیث پاک ’’روزہ میرے لئے ہے اور میں ہی اس کا بدلہ ہوں‘‘ گو بعض محدثین نے مجہول بھی پڑھا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ روزہ کا بدلہ میں خود ہوں۔
ایک روزہ چھوڑنے کا نقصان
’’حضور اقدس ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ جس نے رمضان المبارک کا ایک روزہ بھی بغیر عذر کے چھوڑدیا ساری عمر کا روزہ اس کی قضا نہیں ہوسکتا‘‘ ۔یعنی وہ فضیلت جو رمضان المبارک میں روزہ رکھنے کی تھی اب کسی بھی طرح نہیں پاسکتا۔ لہٰذا کسی طرح غفلت کا شکار ہوکر روزے جیسی عظیم الشان نعمت نہیں چھوڑنی چاہئے۔ بعض لوگ روزہ رکھ کر بغیر کسی مجبوری کے روزہ توڑ دیتے ہیں روزہ سرے سے نہ رکھنا گناہ کبیرہ اور رکھ کر توڑدینا اشد گناہ ہے۔ وقت سے پہلے افطار کرنے سے یہی مراد ہے کہ روزہ تو رکھ لیا مگر سورج غروب ہونے سے پہلے پہلے جان بوجھ کر کسی صحیح مجبوری کے بغیر توڑ ڈالا۔ اللہ تعالیٰ پیارے حبیبﷺکے طفیل اپنے قہر وغضب سے بچائے۔ آمین
آنکھ کاروزہ
آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ انسان کے جسم کے جتنے اعضاء ہیں ان میں سے ہر ایک عضو کا روزہ ہے۔ آنکھ کا روزہ اس طرح رکھنا چاہئے کہ آنکھ جب بھی اٹھے تو صرف اور صرف جائز امور ہی کی طرف اٹھے ۔آنکھ سے مسجد دیکھئے، قرآن مجید دیکھئے، نیک بندوں کا دیدار کیجئے، اللہ عزوجل دکھائے تو کعبہ معظمہ دیکھئے، مکہ مکرمہ کی مہکی مہکی گلیاں اور وہاں کے کوچہ وبازار دیکھئے، سنہری جالیوں کے انوار دیکھئے، جنت کی پیاری پیاری کیاریوں کی بہار دیکھئے، مہکے مہکے مدینہ کے درودیوار دیکھئے ، سبزگنبد اور مینار دیکھئے اور مدینے کے صحراء وگلزار دیکھئے۔
آنکھ کا روزہ رکھئے اور ضرور رکھئے بلکہ آنکھ کا روزہ تو چوبیس گھنٹے تیسوں دن اور بارہ مہینے ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ مقدس آنکھوں سے ہرگز ہرگز فلم نہ دیکھئے۔ نامحرم عورتوں کو نہ دیکھئے ، نہ ہی کسی کا کھلا ہوا ستر دیکھئے۔
کان کا روزہ
کانوں کاروزہ یہ ہے کہ صرف اور صرف جائز باتیں سنیں۔ مثلاً کانوں سے تلاوت ونعت سنئے، قرأت سنئے، سنتوں کابیان سنئے، اذان واقامت سنئے، سن کر جواب دیجئے، اچھی اچھی باتیں سنئے۔ ڈھول، باجے اور موسیقی ہر گز ہرگز مت سنئے، غیبت نہ سنئے، کسی کے عیب ہرگز نہ سنئے۔ حدیث پاک میں آتا ہے کہ جو شخص کسی کا عیب سنتا ہے اس کے کانوں میں پگھلا ہوا سیسہ ڈالا جائے گا۔ 

   زبان کا روزہ
زبان کا روزہ یہ ہے کہ زبان صرف اور صرف نیک وجائز باتوں کے لئے ہی حرکت میں آئے۔مثلاً زبان سے صرف تلاوت کیجئے، ذکر ودرود کا ورد کیجئے، نعت شریف پڑھئے، سنتوں کا بیان کیجئے، اچھی اچھی اور پیاری پیاری دینداری والی باتیں کیجئے۔ گالی گلوج، جھوٹ، غیبت، چغلی اور فضول باتیں زبان سے مت کیجئے کہ چمچہ اگر نجاست میں ڈال دیا جائے تو وہ ایک گلاس پانی سے پاک ہوجائے گا مگر زبان بے حیائی کی باتوں سے ناپاک ہوگئی تو اسے سات سمندر بھی نہیں دھو سکیں گے۔ہاتھوں کا روزہ
ہاتھوں کا روزہ یہ ہے کہ جب بھی ہاتھ اٹھیں تو صرف نیک کاموں کے لئے اٹھیں۔ مثلاً ہاتھوں سے قرآن کریم چھوئیں، ہوسکے تو ہاتھوں سے نابینا کو لے کر چلیں کہ قدم قدم پر ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا۔ نیک لوگوں سے مصافحہ کریں انشاء اللہ ہاتھ جدا ہونے سے پہلے پہلے دونوں کی مغفرت ہوجائے گی۔ ہوسکے تو کسی یتیم کے سرپر شفقت سے ہاتھ پھیریں کہ ہاتھ کے نیچے جتنے بال آئیں گے ہر بال کے عوض ایک ایک نیکی ملے گی۔ خبردار کسی پر ظلماً ہاتھ نہ اٹھیں، رشوت دینے کے لئے نہ اٹھیں، نہ کسی کا مال چرائیں۔
پاؤں کا روزہ
پاؤں کا روزہ یہ ہے کہ اٹھیں تو صرف نیک کاموں کے لئے اٹھیں۔ مثلاً پاؤں چلیں تو مسجد کی طرف چلیں، سنتوں کے اجتماع کی طرف چلیں، نیک صحبتوں کی طرف چلیں، کسی کی مدد کے لئے چلیں، کاش! مکہ ومدینہ کی طرف چلیں، طواف وسعی میں چلیں۔
واقعی حقیقی معنوں میں روزے کی برکتیں تو اسی وقت نصیب ہوں گی جب تمام اعضاء کا بھی روزہ رکھیں گے۔ ورنہ مشکوٰۃ شریف میں آتا ہے کہ حضور اقدس ا کا ارشاد ہے کہ بہت سے روزے دار ایسے ہیں کہ ان کو بھوک وپیاس کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہوتا اور بہت سے شب بیدار ایسے ہیں کہ ان کو سوائے جاگنے کے اور کچھ حاصل نہیں ہوتا۔
افطار کی دعا
جب غروب آفتاب کا یقین ہوجائے تو افطار کرنے میں دیر نہ کریں فوراً کوئی چیز کھاپی لیں۔ مگر بہتر یہ ہے کہ کھجور یا پانی سے افطار کریں کہ یہ سنت ہے ۔ کھجور کھانے یا پانی پینے کے وقت یہ دعا پڑھیں : اَللّٰہُمَّ اِنِّیْ لَکَ صُمْتُ وَبِکَ اٰمَنْتُ وَعَلَیْکَ تَوَکَّلْتُ وَعَلیٰ رِزْقِکَ اَفْطَرْتُ۔
اے اللہ !میں نے تیرے لئے روزہ رکھا اور تجھ پر ایمان لایا اور تجھ پر بھروسہ کیا اور تیرے دیئے ہوئے رزق سے روزہ افطار کیا۔
پھر جب اذان شروع ہوجائے تو کھاناپینا موقوف کردیں اور اذان کا جواب دیں۔ آج کل عموماً لوگ اذان کے دوران کھاتے پیتے رہتے ہیں۔ ایسا نہیں کرنا چاہئے۔ جب کئی اذانوں کی آوازیں آرہی ہوں تو پہلی اذان کا جواب کافی ہے۔
شب قدر کا تحفہ
حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جو کوئی شب قدر میں سورۂ قدر سات بار پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ ہر بلا سے اسے محفوظ کر دیتے ہیں اور ستر ہزار فرشتے اس کے لئے جنت کی دعا کرتے ہیں اور جو کوئی جمعہ کے دن جمعہ سے قبل تین بار پڑھتا ہے اللہ تعالیٰ اس روز کے تمام نماز پڑھنے والوں کی تعداد کے برابر نیکیاں لکھتا ہے۔
اعتکاف
رمضان المبارک کے آخری عشرہ کا اعتکاف سنت مؤکدہ علی الکفایہ ہے۔ یعنی پورے گاؤں میں کسی ایک نے کرلیا تو سب کی طرف سے ادا ہوجائے گا اور اگر کسی نے بھی نہ کیا تو سبھی گنہگار ہوں گے۔
اعتکاف میں ضروری ہے کہ رمضان المبارک کی بیسویں تاریخ کو غروب آفتاب سے پہلے پہلے مسجد کے اندر بنیت اعتکاف موجود ہو اور انتیس کو چاند نکلنے کے بعد یا تیس کو غروب آفتاب کے بعد مسجد سے باہر نکلے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین

2 COMMENTS

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here